css menu by Css3Menu.com

تعارف

عہد جدید میں اسلامی فکر کی ایک اہم اور متوازن کاوش

حافظ محمد موسیٰ بھٹو صاحب، ۱۹۷۰ء سے صحافت اور تصنیف و تالیف کے شعبہ میں کام کررہے ہیں، فکرِ اسلامی، دورِ جدید میں اسلامی فکر کی تشکیل نو اور اس میدان میں ڈیڑھ سو سال سے ہونے والے علمی کام کے تجزیاتی مطالعہ، اسلام اور ملت اسلامیہ کو درپیش چیلنج اس چیلنج کی نوعیت، ملتِ اسلامیہ کے زوال کے اسباب میں، ان کی داخلی کمزوریوں کے گہرے جائزے اور جدید اور قدیم اسلامی فکر پر نگاہ کے معاملہ میں وہ ہمارے ملک کے ان چند اہلِ دانش میں شامل ہیں، جن کے مطالعہ ،مشاہدہ اور تجزیہ سے بجا طور پر استفادہ کرکے، جدید علمی چیلنج سے نمٹنے اور صحیح اسلامی فکر سے رشتہ جوڑنے کے سلسلہ میں رہنما ئی حاصل کی جاسکتی ہے۔ محمد موسیٰ بھٹو صاحب، کو اﷲ تعالیٰ نے یہ سعادت بھی عطا فرمائی کہ انہوں نے زندگی کا بیشتر حصہ ۲۲ سال تک راہ سلوک میں چل کر، نفس شناسی کے مراحل طے کئے، اس طرح وہ علمی اور فکری دنیا میں وسیع سفر کے ساتھ ساتھ نفس کی دنیا میں غوطہ زنی کرکے، صوفیائے کرام کے ان علوم سے بھی ایک حد تک بہرہ ور ہوئے، جو معرفتِ نفس اور معرفتِ رب سے متعلق ہیں۔ موصوف ۸۴ء کے آخر میں نقشبندی سلسلہ کے ایک بزرگ کی صحبت میں رہے، چار سال کے بعد ۱۹۸۸ء میں وہ ممتاز محقق اور عارف ڈاکٹر غلام مصطفےٰ خاںؒ کے حلقہ سے وابستہ ہوگئے، ڈاکٹر صاحب نے ۱۷ سال کے دوران انہیں راہ سلوک کے مراحل طے کرائے، بعد ازاں انہیں ملک کے ایک ممتاز اہل علم اور عارف حضرت نثار احمد خاں فتحی سے چاروں سلسلوں میں بیعت کی اجازت حاصل ہوئی۔ محمد موسیٰ بھٹو صاحب کی صحافتی زندگی کا آغاز ۱۹۷۰ء میں روزنامہ ’’جسارت‘‘ کراچی میں مضمون نگار کی حیثیت سے ہوا، موصوف ۱۹۸۳ء تک ’’جسارت‘‘ کے وقائع نگار خصوصی کی حیثیت سے کام کرتے رہے، ۱۹۸۵ء سے ۱۹۸۸ء تک وہ روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں قومی اور ملی مسائل پر مستقل مضامین لکھتے رہے۔ مختلف موضوعات پر ان کے سیکڑوں مضامین شائع ہوئے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ اردو اور سندھی زبان میں اسلامی فکر کی جدید اسلوب میں تفہیم و تشریح کے موضوعات پر تصنیف و تالیف کا کام بھی کرتے رہے اور اسلامی فکر کے ممتاز شارحوں اور اسلام پر بہتر علمی کام کرنے والے مفکروں اور فاضلوں کے سیر حاصل کتابوں کے مطالعہ کے بعد، ان کے فکر کی تلخیص پر مشتمل کتابیں بھی مدون کرتے رہے۔ موصوف کی طرف سے ۱۹۸۳ء سے سندھی زبان میں جدید نظریات، نیشنلزم، سیکولرزم اور اسلام کی علمی اسلوب میں صداقت پر مشتمل کتابوں کا ایک مستقل سلسلہ شروع کیا گیا۔ ان موضوعات پر سندھی زبان میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ کتابیں شائع کی گئیں۔ اس طرح وہ اردو اور سندھی زبان میں بہت ساری کتابیں تصنیف وتالیف کرچکے ہیں۔ محمد موسیٰ بھٹو صاحب نے ۱۹۹۲ء سے سندھی زبان میں ’’بیداری‘‘ کے نام سے ماہنامہ رسالہ کا اجراء کیا، ۹۶ صفحات پر مشتمل یہ رسالہ پچھلے ۱۷ سال سے باقاعدہ شائع ہورہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ۲۰۰۳ء سے اردو میں بھی ماہانہ ’’بیداری‘‘ کا حیدرآباد سندھ سے اجراء کیا۔ ان دونوں رسالوں کا مواد ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، لیکن اس میں شائع ہونے والے مواد میں ملتِ اسلامیہ کے مسائل، اسے درپیش داخلی و خارجی چیلنج، جدید دور کے انسان کے ذہنی اور نفسیاتی مسائل کی، اسلامی نقطہ نگاہ سے صحیح نشاندہی، قرآن و سنت کے سلف صالحین کے اسلامی فکر کی تشریح، ذہن کے ساتھ ساتھ دل اور روح کی بالیدگی کے انتظامات، جدید اسلامی فکر میں موجود علمی کمزوریوں کی حکمت سے نشاندہی، ملتِ اسلامیہ کے مقتدر اور مؤثر طبقات کی اخلاقی خرابیوں پر گرفت اور اپنے بڑھتے ہوئے زوال میں اپنی نفسی خرابیوں کی تفصیل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ محمد موسیٰ بھٹو صاحب، وسیع علمی، فکری اور روحانی سفر کے مطالعہ و مشاہدہ سے اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ مسلمانوں کے سارے طبقات، ملتِ اسلامیہ کا حصہ ہیں، ان کے باہمی اختلافات صدیوں سے رہے ہیں، اب بھی رہیں گے، ملتِ اسلامیہ کا ہر فرد جو کلمہ گو ہے، وہ ہمارے سر کا تاج ہے، کلمہ گو افراد کی تردید و تکذیب میں توانائیاں صرف کرنا، حماقت در حماقت ہے۔ عہدِجدید میں ملتِ اسلامیہ موت و حیات کی کشمکش سے دوچار ہے۔ دجالی تہذیب کے علمبرداروں نے ملت کے ہر فرد سے، اس کا دین و ایمان سلب کرنے کے لئے مکر و فریب کے ایسے آلات ایجاد کئے ہیں اور سازشوں کا ایسا ہمہ گیر جال پھیلایا ہے اور ہمارے ہی نفس پرست افراد کی برین واشنگ کرکے، انہیں دولت کے انبار دے کر، ہمارے بگاڑ کے ایسے ہمہ گیر کام پر لگایا ہے کہ ان حالات میں ہم سب کے دین و ایمان کی سلامتی، اس بات سے وابستہ ہے کہ باہمی فروعی، مسلکی و کلامی اختلافات سے صرف نظر کرکے، اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں اپنی اور اپنی نئی نسلوں کے دین و ایمان کی سلامتی میں صرف کریں، یہی وقت کاتقاضا ہے اور یہی اسلام کا مطالبہ ہے۔ البتہ ہمہ گیر زوال کے اس دور میں جہاں ہمارے سارے شعبے زوال کا شکار ہیں، وہاں اسلامی فکر کی جدید پیشکش کے دعوتی و علمی ادارے اور تصوف، روحانیت اور اﷲ کی محبت اور فقیری و درویشی کی دعوت دینے والی بہت ساری درگاہیں اور خانقاہیں بھی ایسی ہیں، جو زمانہ کی بے رحم موجوں کی شکار ہیں اور جن کے فکر و عمل میں نہ چاہتے ہوئے بھی سلف صالحین کے اسلامی فکر سے عدم مطابقت اور جدیدیت اور نفس پرستی کی آمیزش شامل ہوگئی ہے، اس لئے جدید اسلامی فکر میں موجود علمی اور فکری کمزوریوں کو سمجھ کر، سلف صالحین کے اسلامی فکر کے سلسلہ سے وابستہ رہنا بھی نہ صرف ضروری ہے، بلکہ دین و ایمان کا بنیادی تقاضہ ہے اور سبیل المؤمنین پر گامزن رہنا، قرآن ہی کا حکم ہے، اسی طرح روحانیت، اور اصلاح نفس کے نام پر خرافات، بدعات، ذہنی و علمی و فکری جمود، دوسری دنیا کے مشاہدات کو حاصلِ دین سمجھنے کی روش اور عالمی کفر اور طاغوت کی سازشوں اور اس کے اہداف کے عدم فہم کا رویہ بھی ایسا ہے، جو ناقابل فہم ہے، اس پر تنقید کرکے، خود احتسابی پر زور دینا، وقت کی اہم ضرورت ہے اور ملت کی سلامتی کے لئے ناگزیر ہے۔ حافظ محمد موسیٰ بھٹو صاحب کی ساری علمی، فکری اور عملی جدوجہد کا ہدف یہی چیزیں ہیں۔ ان کی ساری کتابیں انہی چیزوں کے گرد گھومتی ہیں۔ یعنی وقت کے چیلنج کو سمجھنا، باطل کی عالمی قوت کی حکمت عملیوں کا فہم ہونا، جدید اسلامی فکر میں سیاست، عسکریت، خارجی جدوجہد اور مالداروں سے جنگ کو دین کا نصب العین قرار دینے کی غلطیوں کی نشاندہی ہونا، صحیح و غلط تصوف کے درمیان بنیادی خطوط کا متعین ہونا، اہلِ اسلام کو نئے دور کے چیلنج سے عہدہ برآ ہونے کے سلیقہ سے آشنا کرنا، عقل و عقلیت سے بھرپور کام لینے کے ساتھ ساتھ دل کی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرکے، ان صلاحیتوں کو اجاگر کرنے پر زور دینا اور ایمان و یقین کی قوت کے ساتھ حمیتِ دین اور غلبۂ دین کے لئے کوشاں ہونا وغیرہ وغیرہ۔ ان سارے موضوعات کو عہدِجدید کی علمی زبان میں سمجھنے کے لئے محترم محمد موسیٰ بھٹو صاحب کی ۱۰۰ سے زیادہ اردو کتابوں کا مطالعہ ہر اعتبار سے مفید ہے، اس سے آپ جہاں سلف صالحین اور ملت سے اپنے رشتہ کو قائم رکھنے میں کامیاب ہوں گے، وہاں اسلام کے نصب العین اور فرائض و واجبات کے سلف صالحین کے قرآن و سنت کے تصور کے حامل بھی ہوں گے، ساتھ ساتھ عہدِ جدید کے علمی، فکری اور عملی چیلنج کے فہم سے بھی بہرہ ور ہوں گے اور معاشرہ کے حوالے سے اپنی دینی و دعوتی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے سلیقہ سے آشنا ہوجائیں گے۔ (انشاء اﷲ تعالیٰ) محمد موسیٰ بھٹو صاحب کے فکری آئیڈیل میں جو شخصیتیں شامل ہیں، ان میں مولانا اشرف علی تھانویؒ ، علامہ اقبال، ڈاکٹر محمد رفیع الدین اور مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ شامل ہیں۔ ان کی نظر میں مولانا اشرف علی تھانویؒ اس دور کے حکیم الامت ہیں، اسلام کی تجدید کے لئے ان کا کام ایسا ہے، جو عہد ساز ہے اور جسے جدید علمی اسلوب کی صورت دے کر، ان سے موجودہ دور کے حالات میں بہتر رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے، مولانا کی فکر چونکہ جدید افراد کی ذہنی اور علمی سطح سے ہم آہنگ نہیں ہے، اس لئے بدقسمتی سے ملت کی ایسی عظیم فاضل شخصیت کی تحریروں سے جدید طبقات کے لئے پوری طرح استفادہ دشوار ہوگیا ہے۔ اس لئے مولانا کی فکر کو آسان اسلوب میں پیش کرنے کی ضرورت ہے، اس سلسلہ میں موصوف کا کام اہم ہے۔ علامہ اقبال نے جدید فکر و فلسفہ کے پس منظر میں اسلامی فکر کی جو تشکیل کی ہے، وہ بے مثال ہے، تاہم چونکہ الٰہیات کی جدید تشکیل کے سلسلہ میں ان کے سامنے دورِ جدید کا تشکیک شدہ فلاسفر پیش نظر تھا، اس لئے ان کی توجیہاتِ الٰہیہ کے بعض پہلوؤں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، علامہ اقبال خود بھی متذبذب تھے کہ تشکیل الٰہیاتِ جدید کے موضوع پر ان کے خطبات کے اردو میں ترجمہ و اشاعت سے کہیں ان کی فکر کے فہم میں غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔ اقبال کی فکر کا مرکزی نکتہ اﷲ کے ساتھ محبت و عشق کا نکتہ ہے، ان کی اس فکر کو اجاگر کرنے کے لئے محمد موسیٰ بھٹو کی کتاب ’’اقبال کا فلسفۂ عشق اور اس کے اسرار و رموز‘‘ اپنے موضوع پر ایک منفرد نوعیت کی کتاب ہے۔ ڈاکٹر محمد رفیع الدین صاحب، عالمِ اسلام کے ایسے مایۂ ناز فلسفی ہیں، جنہوں نے جدید و قدیم فلسفہ کے پس منظر میں اسلامی فکر اس سلیقہ سے پیش کی ہے کہ جدیدیت سے متاثر ذہین تر نوجوان بھی ان کی کتابوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ محمد موسیٰ بھٹو صاحب کے چوتھے ممدوح مفکر مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی فکر، اس اعتبار سے بڑی اہم ہے کہ اس میں اسلام کی مکمل تشریح، اس کی صحیح ترتیب کے ساتھ موجود ہے، مولانا نے جہاں امت کا رشتہ سلف صالحین کے اسلامی فکر سے جوڑنے کی عظیم کاوش فرمائی ہے، وہاں دورِ جدید میں اسلامیت کے ساتھ زندہ رہنے اور جدیدیت کی ایجاد کردہ ساری مثبت چیزوں اور مثبت فکر سے استفادہ کرنے کے سلسلہ میں متوازن رہنمائی ہے۔ محمد موسیٰ بھٹو صاحب نے ان چاروں اکابر فاضل شخصیتوں کے فکر کی تلخیص پر مشتمل کئی کتابیں مرتب کی ہیں، ساتھ ساتھ معروف جدید اسلامی دانشوروں کے فکر کے تجزیہ، اور ان کے فکر کے مثبت و کمزور پہلوؤں کی نشاندہی پر بھی متعدد کتابیں تحریر کی ہیں۔

اشفاق احمد بھٹو