اولاد کی اصلاح کی فکرمندی

موجود ہ دور میں ہر دیندار فرد پریشان ہے کہ اپنی اولاد کی اصلاح کیسے ہو٬ اس لئے کہ اسکول اور کالج کا ماحول مادیت پر مشتمل ہے٬ بازار کا ماحول بھی فاسد ہے٬ دوستی کا ماحول بھی خراب ہے٬ موبائل نے بچوں کے ذہنوں کو مسموم کر دیا ہے۔
ان حالات میں دیندار افراد کی پریشانی قاہل رحم ہے٬ ایک حدیث کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ دجال کے ظہور کے وقت گھر والے اپنی اولاد سے کہیں گے کہ باہر نہ جاؤ ‏٬ اس لئے کہ باہر دجال آیا ہوا ہے٬ لیکن اولاد ان کی بات نہیں مانے گی اور باہر جائے گی٬ اس طرح وہ دجال کی نذر ہوجائے گی۔
یہ تو دجال کے ظہور کے وقت کی حالت ہوگی٬ لیکن اس وقت دجالی تہذیب کے عروج کے وقت بھی حالت اس سے کچھ ملتی جلتی ہے کہ بچوں کو اسکول اور کالیج میں پڑھنے کےلئے بیجھا جاتا ہے تو وہ مادہ پرستی کے رجحانات کی حامل ہوجاتی ہے اور اپنی پاکیزہ تہذیب سے بے گانہ ہوجاتی ہے۔
اس صورتحال سے بچاؤ ‏کی سب سے بہتر صورت یہ ہے کہ بچوں کا اہل اللہ سے تعلق جوڑا جائے اور انہیں ان کے ذکر وفکر کے حلقوں میں شریک کیا جائے٬ اس سے دلوں میں اللہ کی محبت پیدا ہونا شروع ہوگی اور مادیت اور نفسی قوتوں کے اثرات زائل ہونا شروع ہوں گے۔
صحبت اہل اللہ کا راستہ اگرچہ دشوار گزار ہے٬ لیکن مادی اثرات سے بچاؤ ‏ کا سب سے مؤ ‏ ثر ترین راستہ ہے۔
یہ سوال بہت اہم ہے کہ آخر اہل اللہ کی صحبت میں یہ تاثیر کیوں ہے؟ اس کاا یک سبب یہ ہے کہ وہ ذکر وفکر کے غیرمعمولی مجاہدوں سے دل کو دنیا کی محبت سے نکالنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوچکے ہوتے ہیں٬ دوسرا سبب یہ ہے کہ ان کا دل اللہ کی محبت سے سرشار ہوتا ہے٬ ان کی صحبت سے یہ چیزیں منتقل ہو کر فرد کے دل کو غیر اللہ سے نکالنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔﴿تحریر:حافظ محمد موسٰی بھٹو ﴾