(117﴾ *وقت کا چیلنج دردمند افراد کے غوروفکر کے لئے*

(117﴾
*وقت کا چیلنج دردمند افراد کے غوروفکر کے لئے*

ہمارے ملک میں نوجوان نسل جس تیزی سے مادی نظریات اور مادی تہذیب کی حامل ہوتی جارہی ہے٬ وہ بہت زیادہ تشویشناک بات ہے٬ اس سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ قومی سطح پر ایسی طاقتور تو کیا٬ کمزور تحریک بھی موجود نہیں٬ جو مادہ پرست تحریک کی روک تھام کے لئے اپنے حصہ کا کردار ادا کرتی ہو٬ کچھ دردمند افراد ضرور ایسے ہیں٬ جو اپنی صلاحیتوں کے تحت کام کررہے ہیں٬ لیکن معاشرے میں ان کی بات سننے پر آمادگی نہیں٬ اور نہ ہی ان کے ساتھ تعاون کی کوئی صورت پیدا ہورہی ہے۔
وقت کا چیلنج بہت سنگین ہے٬ وہ چیلنج یہ ہے کہ ہمارے لاکھوں سے زیادہ افراد اپنا دل مادی نظریات اور مادی تہذیب کو دے چکے ہیں٬ وہ مغرب کو آئیڈ یل سمجھتے ہیں٬ اپنی پاکیزہ تہذیب کے سلسلے میں وہ احساس کمتری کا شکار ہیں٬ وہ اپنی اور اپنے مستقبل کی بہتری مغرب واہل مغرب کی تقلید میں سمجھتے ہیں٬ پرنٹ میڈ یا اور الیکٹرانک میڈ یا ان کی پشت پناہی کا ’’ کارنامہ‘‘سرانجام دے رہے ہیں، ہمارے دینی اور مذہبی طبقات کے پاس وقت کے اس سنگین چیلنج کو سمجھنے کے لئے نہ تو وقت ہے٬ نہ ہی وہ اس کی کوئی خاص ضرورت محسوس کررہے ہیں۔
ترکی جو کسی دور میں ملحدانہ نظریات کا حامل تھا٬ ترکی کا معاشرہ تیزی سے اسلام سے ہمہ آہنگ ہوتا جارہا ہے٬ جب کہ ہمارا معاشرہ اس کے بالکل برعکس,اتاترک کے ترکی کے دور کی طرف جارہا ہے٬ ہمارے دینی مدارس ایسے اسکالر اور دانشور پیدا کرنے سے قاصر ہیں٬ جو وقت کے چیلنج کو سمجھکر جدید علمی اسلوب میں اس چیلنج کے علمی مقابلے کے لئے کام کرتے ہوں۔
ان حالات میں اہل تصوف کا دائرہ کار بھی بہت محدود ہوگیا ہے٬ ضرورت ہے کہ حساس اور دردمند افراد صورتحال کو تبدیل کرنے کے لئے اپنے حصہ کا کردار ادا کریں٬ دوسری صورت میں نئی نسلوں کو اپنی پاکیزہ تہذیب پر قائم رکھنے میں ہمیں ناکامی سے دوچار ہونا پڑے گا٬ جو سب سے بڑا المیہ ہوگا٬ اس سے بڑھکر کوئی دوسرا المیہ ہو نہیں سکتا۔