WhattsApp blog

(116)
اولاد کی اصلاح کی فکرمندی

موجود ہ دور میں ہر دیندار فرد پریشان ہے کہ اپنی اولاد کی اصلاح کیسے ہو٬ اس لئے کہ اسکول اور کالج کا ماحول مادیت پر مشتمل ہے٬ بازار کا ماحول بھی فاسد ہے٬ دوستی کا ماحول بھی خراب ہے٬ موبائل نے بچوں کے ذہنوں کو مسموم کر دیا ہے۔
ان حالات میں دیندار افراد کی پریشانی قاہل رحم ہے٬ ایک حدیث کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ دجال کے ظہور کے وقت گھر والے اپنی اولاد سے کہیں گے کہ باہر نہ جاؤ ‏٬ اس لئے کہ باہر دجال آیا ہوا ہے٬ لیکن اولاد ان کی بات نہیں مانے گی اور باہر جائے گی٬ اس طرح وہ دجال کی نذر ہوجائے گی۔
یہ تو دجال کے ظہور کے وقت کی حالت ہوگی٬ لیکن اس وقت دجالی تہذیب کے عروج کے وقت بھی حالت اس سے کچھ ملتی جلتی ہے کہ بچوں کو اسکول اور کالیج میں پڑھنے کےلئے بیجھا جاتا ہے تو وہ مادہ پرستی کے رجحانات کی حامل ہوجاتی ہے اور اپنی پاکیزہ تہذیب سے بے گانہ ہوجاتی ہے۔
اس صورتحال سے بچاؤ ‏کی سب سے بہتر صورت یہ ہے کہ بچوں کا اہل اللہ سے تعلق جوڑا جائے اور انہیں ان کے ذکر وفکر کے حلقوں میں شریک کیا جائے٬ اس سے دلوں میں اللہ کی محبت پیدا ہونا شروع ہوگی اور مادیت اور نفسی قوتوں کے اثرات زائل ہونا شروع ہوں گے۔
صحبت اہل اللہ کا راستہ اگرچہ دشوار گزار ہے٬ لیکن مادی اثرات سے بچاؤ ‏ کا سب سے مؤ ‏ ثر ترین راستہ ہے۔
یہ سوال بہت اہم ہے کہ آخر اہل اللہ کی صحبت میں یہ تاثیر کیوں ہے؟ اس کاا یک سبب یہ ہے کہ وہ ذکر وفکر کے غیرمعمولی مجاہدوں سے دل کو دنیا کی محبت سے نکالنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوچکے ہوتے ہیں٬ دوسرا سبب یہ ہے کہ ان کا دل اللہ کی محبت سے سرشار ہوتا ہے٬ ان کی صحبت سے یہ چیزیں منتقل ہو کر فرد کے دل کو غیر اللہ سے نکالنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔﴿تحریر:حافظ محمد موسٰی بھٹو ﴾

(117﴾
*وقت کا چیلنج دردمند افراد کے غوروفکر کے لئے*

ہمارے ملک میں نوجوان نسل جس تیزی سے مادی نظریات اور مادی تہذیب کی حامل ہوتی جارہی ہے٬ وہ بہت زیادہ تشویشناک بات ہے٬ اس سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ قومی سطح پر ایسی طاقتور تو کیا٬ کمزور تحریک بھی موجود نہیں٬ جو مادہ پرست تحریک کی روک تھام کے لئے اپنے حصہ کا کردار ادا کرتی ہو٬ کچھ دردمند افراد ضرور ایسے ہیں٬ جو اپنی صلاحیتوں کے تحت کام کررہے ہیں٬ لیکن معاشرے میں ان کی بات سننے پر آمادگی نہیں٬ اور نہ ہی ان کے ساتھ تعاون کی کوئی صورت پیدا ہورہی ہے۔
وقت کا چیلنج بہت سنگین ہے٬ وہ چیلنج یہ ہے کہ ہمارے لاکھوں سے زیادہ افراد اپنا دل مادی نظریات اور مادی تہذیب کو دے چکے ہیں٬ وہ مغرب کو آئیڈ یل سمجھتے ہیں٬ اپنی پاکیزہ تہذیب کے سلسلے میں وہ احساس کمتری کا شکار ہیں٬ وہ اپنی اور اپنے مستقبل کی بہتری مغرب واہل مغرب کی تقلید میں سمجھتے ہیں٬ پرنٹ میڈ یا اور الیکٹرانک میڈ یا ان کی پشت پناہی کا ’’ کارنامہ‘‘سرانجام دے رہے ہیں، ہمارے دینی اور مذہبی طبقات کے پاس وقت کے اس سنگین چیلنج کو سمجھنے کے لئے نہ تو وقت ہے٬ نہ ہی وہ اس کی کوئی خاص ضرورت محسوس کررہے ہیں۔
ترکی جو کسی دور میں ملحدانہ نظریات کا حامل تھا٬ ترکی کا معاشرہ تیزی سے اسلام سے ہمہ آہنگ ہوتا جارہا ہے٬ جب کہ ہمارا معاشرہ اس کے بالکل برعکس,اتاترک کے ترکی کے دور کی طرف جارہا ہے٬ ہمارے دینی مدارس ایسے اسکالر اور دانشور پیدا کرنے سے قاصر ہیں٬ جو وقت کے چیلنج کو سمجھکر جدید علمی اسلوب میں اس چیلنج کے علمی مقابلے کے لئے کام کرتے ہوں۔
ان حالات میں اہل تصوف کا دائرہ کار بھی بہت محدود ہوگیا ہے٬ ضرورت ہے کہ حساس اور دردمند افراد صورتحال کو تبدیل کرنے کے لئے اپنے حصہ کا کردار ادا کریں٬ دوسری صورت میں نئی نسلوں کو اپنی پاکیزہ تہذیب پر قائم رکھنے میں ہمیں ناکامی سے دوچار ہونا پڑے گا٬ جو سب سے بڑا المیہ ہوگا٬ اس سے بڑھکر کوئی دوسرا المیہ ہو نہیں سکتا۔

(118)
*ریاست کی اصلاح کی بہتر سے بہتر صورت*

یہ بات تو واضح ہے کہ جب تک ہماری ریاست اور معاشرے میں تبدیلی برپا نہیں ہوتی٬ تب تک ہماری ملی اور قومی زندگی میں بہتری کی صورت پیدا نہیں ہو سکتی اور ملی زندگی کی بہتری کے بغیر ہمارے اجتماعی نظام کی کوئی کل درست نہ ہوگی اور ہمارا ضمیر مردگی کا شکار ہوگا٬ نیز ہم فکری اور معاشی طور پر دوسروں کے غلام ہی رہیں گے۔ اور ہماری بیشتر قوتیں ایک دوسروں کو نیچا دکھانے اور دوسروں پر بالادستی حاصل کرنے میں صرف ہوں گی اور ہماری اجتماعی زندگی کا کوئی بھی شعبہ انتشار اور خلفشار سے محفوظ نہ ہوگا۔
ریاست اور معاشرے کی اصلاح کی اس اہمیت کے باوجود ہمارا زور افراد کی اصلاح پر ہے٬ اس کا سبب یہ ہے کہ افراد کی اصلاح ہی وہ عمل ہے٬ جس سے ریاست اور معاشرہ تبدیل ہوتا ہے اور افراد٬ ریاست اور معاشرہ پر اثر انداز ہوتے ہیں٬ افراد کی زندگیوں میں اصلاح نہ ہونے سےہی ریاست اور معاشرہ فساد سے دوچار ہوتے ہیں٬ جس ملک میں افسران٬سیاستدان٬سرمایہ دار اور تاجر ذاتی مفادات کے اسیر ہو چکے ہوں اور اس سے بلند ہونے کے لئے کسی طرح تیار نہ ہوں٬ کوئی قانون اور احتساب کی کوئی قوت اس ریاست اور معاشرےکو زوال سے نہیں بچا سکتی۔
افراد٬ ریاست کے لئے ستون کی حیثیت رکھتے ہیں٬ اگر یہ ستون ہی کمزور ہو تو اس ستون پر جو عمارت قائم ہوگی٬ وہ دھڑام سے نیچے آ گرے گی٬ ہمارا نظام تعلیم ریاست اور معاشرہ کو ہر سال ایسے لاکھوں افراد فراہم کرتا ہے٬ جن کا اس کے سوا کوئی مقصد زندگی نہیں ہوتا کہ عیش وعشرت کی زندگی بسر کی جائے اور ریاست اور قوم کو ہر طرح سے لوٹا جائے٬ اس نفسیات اور مزاج کے حامل افراد سیاست میں آئیں یا انتظامیہ اور تجارت میں٬ ان سے ریاست اور معاشرے کی فلاح کی کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی۔
اس لئے ضروری ہے کہ نچلی سطح پر افراد کی اصلاح کا کام شروع کیا جائے٬ افراد کے باطن میں تبدیلی کے کام کو فیصلہ کن اہمیت دی جائے٬ اس طرح کے افراد جس شعبہ زندگی میں بھی آئیں گے٬ ان سے خیر ہی خیر برآمد ہوگی٬ ان کی اصلاح کی بنیاد مضبوط ہوگی تو وہ ملک وملت کا کسی صورت نقصان ہونے نہیں دیں گے۔

(119)
*اصلاح نفس کی مختلف صورتیں*

اصلاح نفس اور تزکیہ نفس کے مختلف طریقے ہیں٬ اگر اصلاح کی حقیقی طلب موجود ہو تو اصلاح اور نفس کی پاکیزگی کی صورتیں پیدا ہو سکتی ہیں٬ ایک صورت یہ ہے کہ قرآن سے تعلق مستحکم کیا جائے٬ قرآن کے معنیٰ اور اس کی روح کو طبیعت کا حصہ بنانے کی کوشش کی جائے٬ قرآن تو سراسر عبرت وموعظت کی کتاب ہے٬ اگر اسے پہلے مرحلہ پر دوسروں کو سنانے کی بجائے اپنی اصلاح اور اپنے نفس کی پاکیزگی کی خاطر پڑھا جائے تو قرآن اصلاح کے لئے کافی وشافی ہے٬ لیکن عرصہ تک قرآن سے تعلق کا یہ سلسلہ جاری رکھنا پڑے گا۔
تزکیہ کی دوسری صورت خشوع خضوع سے نماز پڑھنا اور اس سے تعلق قائم کرنا ہے٬ اِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ (بے شک نماز بُرائی اور منکر سے روکتی ہے) عام اور رسمی نوعیت کی نماز سے تزکیہ کی صورت پیدانہیں ہوگی٬ بلکہ نمازسے عشق کی حد تک تعلق پیدا ہوجائے کہ اس کے بغیر آرام ہی نہ آئے٬ بالخصوص تہجد اور کثر ت نوافل سے تزکیہ کی صورت پیدا ہو سکتی ہے٬ نماز عبادت کی سب سے بہتر صورت ہے٬ نماز سے جب اللہ کا دھیان مستحکم ہوجائے تو ایسی نماز فرد کی زندگی کو بدلنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
تزکیہ کی تیسری صورت اخلاص کے ساتھ اللہ کی مخلوق کی خدمت کرنا ہے٬ بالخصوص غریب اور مفلس افراد کی مالی معاونت کی صورت پیدا کرنا اور ان کی پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے کوشاں ہونا ہے اور ان کے درد وغم کو اپنا در د وغم سمجھکر ان کے حل کے لئے کوشش کرتے رہنا ہے اور اس کام کو زندگی کے اہداف میں شامل کرنا ہے۔
یہ تینوں طریقے ایسے ہیں جنہیں عرصہ تک کرتے رہنے سے اصلاح نفس کی بہتر صورت پیدا ہو سکتی ہے۔
ذکر وفکر٬ صحبت صالحہ اور تصوف کی جس ضرورت پر ہم زور دیتے ہیں٬ تصوف کا حاصل بھی فرد کو قرآن٬ نماز اور خدمت خلق تک پہنچانا ہے٬ تصوف میں ذکر وفکر کے مجاہدوں کے نتیجہ میں جب نفس کی سرکشی کا زور ٹوٹ جاتا ہے تو آخر میں طالب سے کہا جاتا ہے کہ وہ ذکر کا دورانیہ کم کرے اور اب اس کی مزید روحانی ترقی قرآن٬ نماز اور خدمت خلق کے کاموں سے ہوگی۔
اصلاح کی مذکورہ صورتیں ان افراد کے لئے ہیں٬ جو ذکر کی طرف آنے کے لئے تیار نہیں یا جو تصوف واہل تصوف سے طبعی مناسبت نہیں رکھتے٬ ذکر اور صحبت کے ذریعہ تزکیہ نفس کا جو طریقہ ہے٬ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ فرد کو نفس کی غیرمعمولی قوتوں اور اس کے مکر وفریب کی واردات کا بتدریج مشاہدہ ہوتا رہتا ہے٬ اور وہ نفس کے نشیب وفراز اور مدوجزر سےگزر کر نفس مطمئنہ تک پہنچتا ہے٬ اس طرح اس میں اپنے نفس کے حوالے سے دوسروں کی بھی نفسی قوتوں اور نفسیات کو پوری طرح سمجھنے اور طلب رکھنے والے افراد کی اصلاح کی استعداد پیدا ہوجاتی ہے۔

(120)
*اعتراضات کے ساتھ روحانیت کا سفر ممکن نہیں*

دنیا کے سارے علوم سیکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ متعلقہ علوم کے ماہر اساتذہ پر اعتماد کیا جائے٬ ان کی تقلید اختیار کی جائے اور ان پر اعتراض کرنے کی روش سے بچا جائے٬ استاد کو ماہر تسلیم کرنے کے بعد اس کی تقلید اختیار کرنا٬ وہ جو سکھائے٬ اسے سیکھنا٬علوم کے حصول کا یہ بنیادی اصول ہے، تقلید کے ذریعہ علوم سیکھنے کے بعد ایک مقام وہ آتا ہے٬ جہاں شاگرد خود استاد کے درجہ پر فائز ہوتا ہے اور وہ دوسروں کو علوم منتقل کرنے اور انہیں پڑھنے پڑھانے اور سکھانے کے قابل بنتا ہے۔
جو شاگرد اس بنیادی اصول کی خلاف ورزی کرتا ہے اور استاد پر اعتراضات شروع کردیتا ہے کہ پہلے مجھے یہ سمجھایا جائے کہ الف٬ الف کیوں ہے اور ب٬ب کیوں ہے٬ یافلاں جملہ اس طرح کیوں ہے؟ اس طرح کی نفسیات کے ساتھ کوئی بھی طالب علوم سیکھنے کی صلاحیت سے محروم رہ جاتا ہے۔
روحانی دنیا میں بھی استاد کی حیثیت مسلمہ رہے٬ استاد پر اعتماد کا ہونا اور وہ جو سبق دے٬ اس پر محنت کرنا ناگزیر ہے ٬اگر باطن کی وسیع دنیا کی اصلاح مطلوب اور روحانی بالیدگی مقصود ہے اور شخصیت میں موجود تلاطم اور نشیب وفراز سے بچ کر ٹہراؤ ‏ پیش نظر ہے تو اس کے لئے روحانی استاد پر اعتماد ہی نہیں٬ بلکہ اس سے محبت کا ہونا بھی ضروری ہے٬ روحانی استاد سے محبت سے سلیقہ زندگی اور آداب زندگی حاصل ہوتے ہیں اور زندگی میں فیوض وبرکات آنا شروع ہوجاتے ہیں٬ روحانی بے قراری اور باطنی اضطراب ختم ہونا شروع ہوتا ہے اور حب جاہ حب مال اور خودنمائی جیسے منفی جذبات قابو میں آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس طرح زندگی پاکیزگی کا نمونہ بن جاتی ہے۔
البتہ روحانی استاد کی صلاحیتوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ضروری ہے کہ وہ واقعی غیرمعمولی روحانی صلاحیتوں کا حامل ہے یا جعلی اور نقلی صوفی واہل تصوف ہے٬ حقیقی صوفی کی پہچان یہ ہے کہ اس کی زندگی شریعت سے پوری طرح ہمہ آہنگ ہوگی٬ اس کی شخصیت فقر٬ سادگی٬ درویشی٬ زہد کا نمونہ ہوگی٬ اور وہ طالبوں کو ہر وقت دستیاب ہوگا٬ نیز وہ ہر طرح کے مفادات سے محفوظ ہوگا٬ ایسا روحانی استاد مل جائے تو اپنے آپ کو اس کے سپرد کرکے٬ نئی ایمانی اور پاکیزہ زندگی کے حصول کی راہ پر گامزن ہونا ضروری ہے٬ دوسری صورت میں نفس میں موجود مکر وفریب کی ہزارہا وارداتوں کو سمجھنا اور ان سے بچنا دشوار تر عمل ہے۔
بدقسمتی سے آج کے دور میں سب سے بڑی خوبی یہ سمجھی جاتی ہے کہ عقل کو تیز سے تیز تر کیا جائے اور سوالات٬ اشکالات اور اعتراضات کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت حاصل کی جائے٬ اس نفسیات کے ساتھ فرد روحانیت اور خودشناسی کی راہ پر ہرگز نہیں چل سکتا۔

(121)
*اسلامی تہذیب اور روحانیت کے بغیر ریگستان میں پانی کی تلاش میں مارے مارے پھرنا*

خدا پرستی پر مبنی روحانیت اور پاکیزہ اسلامی تہذیب کے بغیر افراد کی مثال اس وسیع ریگستان کی سی ہے٬ جہاں پانی کی تلاش میں افراد مارے مارے پھرتے رہیں۔ بالآخر وہ موت کا شکار ہوجائیں۔
کافی وقت پہلے کا واقعہ ہے کہ اخوان المسلمون کے ایک دانشور نے جو امریکہ میں رہتے تھے٬ انہوں نے اپنےگھر پر مغربی اہل علم کو دعوت دی اور ان کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا٬ اس موقعہ کو غنیت جان کر٬ انہوں نے ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی٬ انہوں نے کہا کہ اسلام کے سیاسی نظام میں یہ یہ بنیادی خصوصیات موجود ہیں٬ اسلام کا عدالتی نظام ان نکات پر مبنی ہے٬ وغیرہ وغیرہ٬ نشست میں شریک امریکی اہل علم نے ان سے کہا کہ ہمارے پاس بہترین سیاسی وعدالتی نظام موجود ہے٬ ہم معاشی خوشحالی کے اعتبار سے بھی بہتر سے بہتر حالت میں ہیں٬ آپ کے پاس اگر ہمارے باطنی احساسات کی پاکیزگی کا پروگرام موجود ہو٬ جسے اہل مشرق روحانیت کہتے ہیں٬ اگر یہ روحانیت آپ کے پاس موجود ہو تو اس کا کچھ حصہ ہمیں عطا کریں٬ تاکہ ہماری باطنی زندگی میں جو زہریلے اثرات اور فساد برپا ہوگیا ہے، اس سے بچا ؤ ‏ کی صورت پیدا ہو٬ یہ آپ کا ہم پر بہت بڑا احسان شمار ہوگا۔
اسی طرح کا واقعہ اشفاق احمد صاحب کا بھی ہے٬ جو ٹی وی پر پروگرام پیش کیا کرتے تھے٬ وہ پاکستان آنے سے پہلے کینیڈا میں کالج میں استاد تھے٬ ان کا کہنا ہے کہ میں وہاں کبھی کبھار اساتذہ کے سامنے اسلام کی بات کرتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ بھائی٬ ہمیں اسلام کے روحانی نظام کے بارے میں بتائیں (اس لئے کہ ہمارا باطن ویران ہے٬ اس کی تسکین کی کوئی صورت بتائیں) لیکن اشفاق احمد صاحب خود اسلام کی روحانیت سے ناآشنا تھے٬ اس لئے وہ ان کو کیا بتاتے٬ ان کا کہنا ہے کہ ان کے اصرار نے مجھے مجبور کیا کہ میں پاکستان آکر پاکستان بھر کی خانقاہوں میں جاؤں اور خدا پرستی پر مبنی روحانیت سے بہرہ ور ہوں٬تلاش کے بعد الحمد اللّٰہ ان کو ۱۳ سال تک ایک بزرگ کی صحبت حاصل ہوئی٬ جس سے ان کی زندگی میں انقلاب برپا ہوا٬ انہوں نے ٹی وی پر ڈراموں کے ذریعہ اسلام کی روحانیت اور اس کے تزکیہ نفس کے پیغام کو بہت مؤثر طور پر پیش کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ جدید باصلاحیت اور ذہین افراد اگر تزکیہ نفس اور روحانی بالیدگی کی راہ اختیار کریں تو ہم اپنے معاشرے اور انسانیت کو اپنی پاکیزہ تہذیب سے بہت بہتر طور پر آشنا کرکے٬ ان کی زندگیوں کو مادیت کے زہر اور اس کے ہولناک فساد سےبچا سکتے ہیں۔﴿تحریر:حافظ محمد موسٰی بھٹو ﴾
(122)
*علمی برتری وعلمی حجابات اور اس کے نتائج*

علم کے لئے کاوشیں ناگزیر ہیں٬ دنیاوی علوم وفنون سے قوموں کی مادی ترقی وابستہ ہے تو دینی علوم سے دین کا پورا نظام متعلق ہے٬ لیکن ان دونوں علوم کے حصول کی جدوجہد کے دوران یہ لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ کہیں علم سے علمی برتری اور علمی حجابات پیدا نہ ہوجائیں٬ کہیں یہ علوم تزکیہ نفس اور خودشناسی اور اللہ شناسی کی راہ میں حائل نہ ہوجائیں۔
علمی حجابات اور علمی برتری بتا کر نہیں آتیں٬ بلکہ خودشناسی نہ ہونے کے لازمی نتیجہ کے طور پر یہ حجابات پیدا ہوجاتے ہیں٬ جس سے علم کے فوائد وثمرات ضایع ہوجاتے ہیں٬ہم اپنے ملک کے مؤثر طبقات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ملک میں غربت وافلاس کی حالت پیدا کرنے اور عام لوگوں کو نانِ شبینہ(روکھی سوکھی روٹی( کا محتاج بنانے میں جو کردار جدید تعلیم یافتہ طبقات نے ادا کیا ہے٬ جسمیں حکمران٬اہل سیاست٬بیروکریٹ٬ سرمائیدار٬ بڑے بڑے تاجر٬ بڑے بڑے ڈ اکٹر وغیرہ شامل ہیں٬ غیرتعلیم یافتہ افراد نے اس کا ہزارواں حصہ بھی ادا نہیں کیا٬ڈ اکو لوٹ مار کرتے ہیں تو وہ زیادہ سے زیادہ لاکھوں روپے کی لوٹ مار ہوتی ہے٬ لیکن مذکورہ طبقات کی لوٹ مار کروڑوں٬ اربوں روپے کی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دولت کا ایک جنون ہےجس میں مذکورہ طبقات مبتلا ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ علم کے سارے فوائد وثمرات برباد ہوگئے اور علم ذاتی مفادات کے حصول اور نفسی حجابات کا ذریعہ بن گیا۔
ایسا اس لئے ہوا کہ علم سے خودشناسی اور اللہ شناسی کی روح نکال دی گئی٬ اس لئے علم خودغرضی٬ مفاد پرستی٬ نفس پرستی اور دولت پرستی کا ذریعہ بن گیا۔
کوئی قانون ایسا نہیں٬ جو خودشناسی اور اللہ شناسی کا بدل بن سکے٬ اس لئے ضروری ہے کہ علوم کے حصول کے وقت خودشناسی اور اللہ شناسی یعنی معرفت نفس اور معرفت رب کے کچھ اجزاء بھی منتقل کرنے کی کوشش ہو اور اس کا خصوصی اہتما م ہو ۔﴿تحریر:حافظ محمد موسٰی بھٹو ﴾
(123)
*حقیقی اہل تصوف کی کچھ علامتیں*

حقیقی اہل اللہ (جن کی صحبت سے زندگی میں حقیقی انقلاب برپا ہوتا ہے) ان کی کچھ علامتیں یہ ہیں٬ (۱) مادی دوڑ میں شریک ہونے سے انکار کی نفسیات کا غلبہ (۲) فقر محمدی کے اجزاء سے بہرہ وری (۳) سیرت وکردار میں پاکیزگی (۴) آنے والوں،خاص طور پر اللہ کی طلب کی خاطر آنے والوں کے لئے ان کے دروازوں کا کھلے رہنا اور ہر وقت دستیاب ہونا (۵) مالداروں کی طرف غیرمعمولی جھکاؤ ‏کا نہ ہونا (۶) لوگوں کی اصلاح کے لئے حریصانہ اداؤ ‏ں کا ہونا (۷)تفکر اور کم گوئی کا ہونا (۸) حکمت٬ فراست اور بصیرت کا حامل ہونا (۹) گفتگو میں سلیقہ٬ وقار٬ نرمی ومحبت کا ہونا (۱۰)غصہ وعتاب کے وقت بھی محبت کے اجزاء کی آمیزش کا ہونا (۱۱) اختلافی مسائل ومعاملات میں الجھنے سے پرہیز کا ہونا (۱۲) اپنا نیا دائراتی گروہ مستحکم کرنے کی بجائے امت کی یگانگت(اتحاد) کو اہمیت دینا ٬ اور مسلمانوں کو امت کی حیثیت سے دیکھنا (۱۳)مادہ پرستی کی بڑھتی ہوئی طوفانی لہروں کی روک تھام کے لئے اپنے حصہ کا بھرپور کردار اد ا کرنا(۱۴)خلافت کو امانت سمجھکر،اس میں فیاضی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے غیرمعمولی مجاہدوں کے مراحل سے گزر کر٬ نفس کو مہذب بنانے والے افراد ہی کو اس امانت کا مستحق سمجھنا وغیرہ وغیرہ ٬ اس طرح کے اہل اللہ ہی معاشرے کا افتخار(ناز) ہیں ٬ اور دنیا انہی کے دم قدم سے قائم ہے٬ اگرچہ اس دور میں ایسے اہل اللہ کا فقدان ہے٬ چونکہ معاشرہ میں سچی روحانیت اور تزکیہ نفس کی طلب بھی ختم ہوگئی ہے٬ اس لئے ایسے اہل اللہ پس منظر میں چلے گئے ہیں٬ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر طلب موجود ہو تو تلاش کے نتیجہ میں ان تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے٬ جسے اس طرح کے اہل اللہ کی مستقل صحبت حاصل ہوئی٬ اسے گویا سعادت دارین حاصل ہوگئی٬ اس لئے کہ ان کی مستقل صحبت سے رفتہ رفتہ ان کی صفات وخصوصیات پیدا ہوتی اور مستحکم ہوتی جاتی ہیں۔
(124)
*وجدان کی گہرائیوں میں ڈوبنے کا عمل اور اس کے اثرات*

مولانا رومی کا کہنا ہے کہ دکھ٬ مصیبت اور اذیت نام ہے محبوب سے دوری کا٬فرد جوں ہی محبوب حقیقی سے اپنا تعلق قائم کرلیتا ہے٬ وہ دکھ٬ مصیبت اور اذیت کے احساسات سے بلند ہوجاتا ہے۔
اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ فرد اپنے اندر میں ڈ وبنے کی عادت ڈ الے اور اس عادت کو رفتہ رفتہ مستحکم تر کرتاجائے٬ اور دن میں متعدد بار اس عمل کو دہراتا رہے٬ اس سے یہ ہوگا کہ وجدان کی گہرائیوں سے نورانیت ابھر کر٬ فرد کی شخصیت کا احاطہ کرے گی٬ اس طرح اس کے ہر طرح کے دکھوں کا مداوا ہوجائے گا۔
وجدان میں ڈ وبنے کا عمل دراصل دل اور روح کو مادی اور نفسی قوتوں سے آزادی دلاکر٬ فطرت سے ہمہ آہنگ کرنے کا ذریعہ ہے٬ انسانی فطرت نیکیوں اور سراسر خیر سے وابستہ ہے بل ھو ایاہ بینا ة فی صدور الدین اوتی العلم (بلکہ یہ واضح آیت اہل علم( اہل معرفت ) کے سینے میں (پہلے سے) موجود ہیں) ۔
وفی انفسکم افلا تبصرون (ہماری نشانیاں تمہارے اندر میں موجود ہیں آخر تم دیکھتے کیوں نہیں ہو)۔
ونحن اقرب الیہ من حبل الورید (ہم تم سے تمہاری رگ گردن سے بھی زیادہ قریب ہیں)۔
وھو معکم اینما کنتم(تم جہاں کہیں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہے)۔
محبوب حقیقی (جو کائنات کی خالق ہستی بھی ہے) اس کے ساتھ ہونے کا احساس ہی ایسی چیز ہے٬جو غموں کے سارے پہاڑوں سے نجات کا ذریعہ ہے اور بے پناہ سکون وسکینت کا بھی۔
صاحب ایمان فرد جب اندر میں غوطہ زن ہوگا تو چونکہ وہ توحید٬ رسالت اور آخرت کے عقائد کا حامل ہوتا ہے٬ اس لئے اس کے یہ عقائد بھی مستحکم ہوں گے تو عبادات ومعاملات کی بہتر انجام دہی کے سلسلےمیں بھی وہ چست ہوگا۔﴿تحریر:حافظ محمد موسٰی بھٹو ﴾
(125)
*قوموں کی زندگی میں برپا فساد کی تہہ میں کار فرما سبب کی نشاندہی*

معاشرے میں شروع سے جو فساد برپا رہا ہے٬گروہوں کا گروہوں سے ٹکراؤ٬‏ قوموں کا قوموں سے ٹکراؤ ‏٬ ایک دوسرے پر بالادستی کی کوششیں وغیرہ یہ سب نفسی قوتوں اور نفسانیت ہی کی کارستانی رہی ہے٬ اس وقت بھی دنیا میں جہاں بھی جو بھی فساد اور ٹکراؤ ‏ موجود ہے٬ وہ نفسانیت ہی کا نتیجہ ہے۔
نفس اپنی برتری وبالادستی سے کم پر راضی ہونے کے لئے تیار نہیں٬ موجودہ دور چونکہ جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے ماضی کے مقابلہ میں بہت آگےہے٬ اس لئے نفسی قوتوں کو افراد٬ گروہوں اور قوموں کے درمیاں فساد برپا کرنے اور ملکوں کے درمیان جنگ کا بازار گرم کرنے اور قوموں کو معاشی اعتبار سے تباہی سے دوچار کرنے کے بڑے پیمانہ پر مواقع میسر ہوگئے ہیں٬ دنیا میں کوئی ادارہ اور کوئی قانون ایسا نہیں ہے ٬جو عالمی سرمایہ دار اور عالمی قوتوں اور بااثر افراد کو ایسا کرنے سے روک سکے۔
نفس کے برپا کردہ فساد کی وجہ سے قوموں کی زندگی زہر آلود ہوگئی ہے٬ قوموں سےنچلی سطح پر آئیں گے تو افراد کا افراد سے ٹکراؤ ‏ نظر آئے گا٬ برادریوں کا برادریوں سے تصادم نظر آئے گا۔
ان حالات میں تہذیب نفس٬ ضبط نفس اور تزکیہ نفس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے٬ لیکن اس دور میں تزکیہ نفس اور تہذیب نفس کی بات کرنا ہی دشوار ہوگیا ہے٬ اس لئے کہ مادیت کی قوتیں اتنی طاقتور ہیں اور انہوں نے فضا میں مادیت کے ایسے زہریلے اثرات چھوڑ دیئے ہیں کہ باطن میں جھانک کر٬ اپنے نفس کو اصلاح کے مراحل سے گزارنے کی سرے سے بات سننے پر ہی آمادگی موجود نہیں۔
بہرحال کچھ بھی ہو٬ ہمارا کام فساد کی تہہ میں کارفرما اصل سبب اور عامل کی نشاندہی کرنا ہے٬ چاہے بات سننے پر آمادگی ہویا نہ ہو ۔﴿تحریر:حافظ محمد موسٰی بھٹو ﴾

(126)
*اسلام مذہب ہی نہیں مکمل نظام زندگی ہے*

اسلام محض ذکر وفکر اور انفرادی زندگی میں عبادت کا نام ہی نہیں٬ بلکہ عقائد کے ساتھ ساتھ معاشرت٬ معاملات٬ کاروبار اور ریاست کے اجتماعی نظام کے لئے بھی وہ مکمل لائحہ عمل پیش کرتا ہے۔اس اعتبار سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسلام محض مذہب نہیں ہے٬ اگرچہ مذہب٬ اسلام کا مؤثر اور اہم حصہ ہے٬ لیکن اسلام مذہب کے ساتھ ساتھ مکمل دین اور نظام زندگی بھی ہے٬ اس نظام زندگی کے ذریعہ جہاں سیاست٬ اسلام کے تابع ہوتی ہے٬ وہاں معیشت ومعاشرت پر بھی اسلامی قوانین اور تعلیمات لاگو ہوتے ہیں۔
دوسرے مذاہب کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ انکا عملی اجتماعی زندگی سے تعلق منقطع ہوچکا ہے٬ اس طرح دوسرے مذاہب جدید مادی تہذیب کے لئے کسی چیلنج اور خطرے کے حامل نہیں٬ یہ اسلام ہی ہے جو عالمی مادی تہذیب کے مقابلے میں مکمل نظام زندگی کی حیثیت سے سامنے آتا ہے۔
ان الدین عنداللہ الاسلام (بے شک اللہ کے نزدیک اسلام ہی قابل قبول دین ہے) اسلام سے اگر اجتماعی زندگی کے احکامات اور تعلیمات کو خارج کردیا جائے تو دوسرے مذاہب کی طرح وہ محض پوجا پاٹ اورذکر وفکر پر مشتمل مذہب بن جاتا ہے۔
جدید اسلامی مفکرین جنہوں نے اسلام کو بطور نظام زندگی کے پیش کیا ہے اور احیائے اسلام کے لئے جدوجہد کو فیصلہ کن اہمیت دی ہے٬ وہ قابل قدر ہیں کہ ان کی فکر نے سیکولرزم سے متاثر جدید مسلمانوں کے لئے فکری رہنمائی کا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔
ہم اگر اسلام کے تہذیب نفس اور تزکیہ نفس کے پروگرام اور ذکر وفکر پر زور دیتے ہیں تو اس کا سبب یہ ہے کہ اسلام کی اس بنیاد کو مستحکم کئے بغیر دین پر عمل پیرا ہونا مشکل ہے٬ ذکر وفکر کی مستقل اہمیت ہونے کے باوجود بہرحال یہ کلی دین نہیں ہے٬ بلکہ دین کا ایک اہم حصہ ہے٬ اس کا فرد کی انفرادی زندگی ہی سے تعلق ہے اور گہرا تعلق ہے۔

(127)

*دل کے ساتھ عقل کی سلامتی کی اہمیت*

دل کی سلامتی کے ساتھ ساتھ عقل کی سلامتی کی بھی ضرورت ہے٬ اگرچہ جب دل سلیم ہوجاتا ہے تو وہ اپنی سلامتی کے کچھ اجزاء عقل کی طرف بھی منتقل کردیتا ہے٬ لیکن عقل٬ غلط فکر کے حامل افراد کی صحبت سے جلد ہی بھٹک جاتی ہے٬ اس طرح دل کی سلامتی سے عقل بہرہ یاب نہیں ہوپاتی٬ یہاں اس کی دو مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔
ایک مولانا صاحب تھے٬ جن کا زہد٬ فقر٬ دنیا سے بے نیازی اور درویشی مسلمہ تھی٬ لیکن وہ کافی وقت غلط فکر کے حامل افراد کی صحبت میں رہے٬ جس سے ان کی عقل متاثر ہوئی اور انہوں نے اسلام کی تشریح میں کمیونزم سے ہمہ آہنگ فکر پیش کی٬ اس طرح اسلام کا کمیونزم کا ایڈ یشن تیار ہوا٬ ان کی فکر سے متاثر ہزارہا افراد ہیں٬ جو فکری طور پر کمیونسٹ فکر کے حامل افراد سے زیادہ قریب ہیں۔
دوسری مثال سندھ کے ایک مفکر (فکر دینے والی) شخصیت کی ہے٬ جنہوں نے اپنی غلط فکر کی وجہ سے سندھ کی تین نسلوں کو متاثر کیا اور ان کو اسلام سے دور کردیا ۔ حالانکہ ان کے معمولات میں تھا کہ تہجد کے وقت اٹھکر تہجد پڑھنا اور اپنے خاندانی بزرگوں کے قادری سلسلے کا ذکر کرنا اور اوراد ووظائف پڑھنا٬ ان کے تقریبا دوگھنٹے تک یہ اوراد جاری رہتے تھے٬ لیکن تھیا سافیکل سوسائٹی (جو وحدت ادیان کی علمبردار تھی) موصوف کے ان سے گہرے تعلقات تھے٬ وہ ان کے حلقہ مراقبہ میں بھی شامل ہوتے تھے٬ ان کے اثرات کی وجہ سے ذکر وفکر اور اوراد وظائف کے باوجود وہ اسلام کی مخالفت اور وحدت ادیان کے معاملے میں بہت آگے چلے گئے٬ اس لئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ ذکر وفکر کے ذریعہ دل کی اصلاح کے ساتھ ساتھ عقل کی صحیح اسلامی خطوط پر استواری کا کام بھی ناگزیر ہے٬ دوسری صورت میں ذکر وفکر عادت کا حصہ بن جائے گا اور وہ عقل کو بھٹکنے سے بچانے میں ناکام ہوگا۔
عقل کی یہ بھٹکاوٹ دراصل منفی فکر کے حامل افراد کی صحبت کی وجہ سے ہی ہوتی ہے٬ اس لئے قرآن میں فرمایا گیا ہے فلایصدنک عنھا من لایومن بھا واتبع ھواہ فتردیٰ (پس کہیں ایسا نہ ہوکہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اور خواہشات کا پیروکار ہے وہ تمہیں آخرت سے دور
نہ کردے اگر ایسا ہوا تو تم ہلاک ہوجاؤ ‏ گے۔

(128)
*بیداری ملت کے سلسلہ میں اہل تصوف کا کردار*

بیداری ملت کے سلسلے میں تصوف واہل تصوف شروع سے اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں٬ ہماری تاریخ میں سیاست کا رخ تو بدلتا رہا ہے٬ وقت کے بادشاہ اکثر حکمرانی کے نشہ میں چو ر رہے ہیں٬ لیکن ہماری پوری تاریخ میں اہل تصوف چٹائی پر بیٹھکر لوگوں کی تربیت٬ تزکیہ اور اصلاح کا کام کرتے رہے ہیں٬ اس طرح وہ معاشرے کو اخلاقی اور روحانی طور پر سنبھالتے رہے ہیں٬ چنانچہ مسلم معاشرہ کبھی بھی بہت بڑے بگاڑ سے دوچار نہیں ہوا۔ اس کا سبب حکمرانوں کا کردار یا ان کی پالیسیاں نہیں تھی٬ بلکہ اس کا سبب ان بوریہ نشینوں کا پاکیزہ کردار٬ ان کی خدمت انسانیت اور لوگوں کے نفس کی اصلاح میں توانائیاں صرف کرنا تھا۔
ہمارے معاشرے کے بگاڑ میں تیزی فرنگی اقوام کے غلبہ سے شروع ہوتی ہے کہ انہوں نے ہمارے نظام تعلیم اور ہمارے نظام قانون وغیرہ کو بدل کر انہیں اپنے نظریات سے ہمہ آہنگ کیا٬ جس سے عقل وعقلیت کے فتنہ نے جنم لیا اور معاشرے میں سرے سے اہل اللہ کے تزکیہ وتربیت اور اصلاح کے سلسلے میں ان کے کردار سے انکار کیا گیا اور یہ روش غالب ہوئی٬ پھر جدید نظریات اور مادی تہذیب کے غلبہ نے یہ حالت پیدا کردی کہ سرے سے فکر ونظر میں ہی تبدیلی پیدا ہوئی٬ پہلے یہ حالت تھی کہ معاشرے کے لاکھوں افراد اصلاح نفس کے سلسلے میں اہل اللہ سے رجوع ہوتے تھے٬ جس سے معاشرہ اخلاقی اور روحانی طور پر مستحکم ہوتا تھا٬ اب یہ حالت ہوگئی ہے کہ بالعموم سارے جدید طبقات خودسری کا شکار ہو کر٬ اہل اللہ سے بے نیاز ہوگئے ہیں٬ جس سے معاشرے میں دنیا کی دوڑ شروع ہوگئی اور عزت کا معیار دولت قرار پائی ہے۔
مسلم معاشرے کی یہ تبدیلی اتنی بڑی تبدیلی ہے کہ دھائی تین سو سال پہلے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔
اب جہاں فکری طور پر سیکولر نظریات کا غلبہ ہوا وہاں عملی طور پر اخلاقی اور روحانی بحران بھی پیدا ہوا اور معاشرہ میں نفسیاتی بیماریوں کی وبا پھوٹ پڑی ۔
ان حالات میں اہل اللہ کردار ادا کریں تو کیسے کریں٬ اس لئے کہ جب افراد معاشرہ اصلاح اور تزکیہ کی ضرورت ہی محسوس نہ کریں اور وہ اہل اللہ کی طرف رجوع ہونے کےلئے ہی تیار نہ ہوں تو معاشرہ کے سدھارے کے راستے مسدود ہوجاتے ہیں۔
(129)
*سچی روحانیت کی طلب کے*

ختم ہوجانے کا المیہ

موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سچی روحانیت کی طلب ختم ہوگئی ہے٬ اگر تھوڑی سی طلب پیدا بھی ہوتی ہے تو یہ اشکال گھیر لیتی ہیں کہ حقیقی روحانی استاد تک رسائی کیسے ہو سکتی ہے اور اسے کہاں تلاش کیا جائے۔
یہ دراصل مادیت پرستی کے ہمہ گیر اثرات ہیں٬جنہوں نے ہمارا گھیراؤ کرکے ہمیں سچی روحانیت سے دور کر دیا ہے۔ حالانکہ روحانیت سے دوری کی وجہ سے ہماری زندگی ان گنت مسائل ومشکلات سے دوچار ہوگئی ہے٬ زندگی تلخیوں٬ دکھوں اور غموں سے بھر گئی ہے٬ بے قراری کے انگاروں پر لوٹنا تو گوارا ہے لیکن سچی روحانیت کی طرف آنے کے لئے اپنے اندر طلب پیدا نہیں کرنی ۔
اس وقت درویش منش روحانی استادوں کا فقدان پیدا ہوگیا ہے یقیناً وہ موجود تو ہیں٬لیکن پس منظر میں چلے گئے ہیں٬ سبب یہ ہے کہ مارکیٹ میں جن چیزوں کی طلب اور ضرورت نہیں ہوتی٬ وہ چیزیں مارکیٹ سے غائب ہوجاتی ہیں٬ اگرچہ وہ موجود ہوتی ہیں٬ لیکن تلاش بسیار کے بعد ملتی ہیں۔
کوئی چیز ایسی نہیں ہے ٬جو طلب کے نتیجہ میں نہ ملتی ہو٬ آپ اپنے اندر روحانیت کی سچی طلب پیدا کریں تو آپ دیکھیں گے کہ ایسے حالات پیدا ہوجائیں گے کہ روحانی استاد کو آپ اپنے سامنے موجود پائیں گے٬ اس طرح آپ رفتہ رفتہ روحانیت کے ایسے خزینہ سے بہر ہ ور ہوں گے کہ زندگی بھر کے سارے دکھ اور غم کافور ہوجائیں گے ۔
(130﴾
*دولت کی محبت سے بچاؤ ‏ کی صورت*

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ دنیا کی محبت ساری بُرائیوں کی جڑ ہے٬ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فرمان ہے کہ سرمایہ دار (مالدار) کا خدا کی خدائی میں داخل ہونا اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونے کے مترادف ہے۔
دنیا کی محبت دراصل دل کو اللہ کی محبت سے دور کردیتی ہے٬ دنیا کی محبت فرد کے سامنے حرص وہوس کے بتوں کو سجاکر٬ اس طرح پیش کرتی ہے کہ فرد کی ساری زندگی دنیا کے جنون میں مبتلا ہوجاتی ہے٬ نفسیات کے ماہر کارلائل نے لکھا ہے کہ فرد کی حالت یہ ہے کہ اگر ایک موچی کو بھی آدھی دنیا کا خزانہ دے دیا جائے تو وہ اس پر مطمئن نہیں ہوگا٬ بلکہ وہ بقیہ زندگی، باقی آدھے خزانے کے حصول کے لئے خزانوں کے حامل افراد سے حالت تصادم میں رہے گا۔
مولانا رومی کا کہنا ہے کہ دنیا دولت ودرہم نہیں ہے٬ بلکہ دنیا دل کی گہرائیوں میں بستی ہے٬ اگر دل دنیا کی محبت سے خالی ہوجائے تو دولت ودرہم نقصاندہ نہیں ہیں۔
مال ودولت سے فرد کی بہت ساری ضرورتیں وابستہ ہیں٬ اس لئے دولت کے لئے ایک حد تک جدوجہد کرنا ناگزیر ہے٬ لیکن اس اہتمام کا ہونا بھی ضروری ہے کہ دولت دل کی گہرائیوں میں داخل نہ ہونے پائے۔
آج ہمارے ملک کی جو حالت ہے کہ اسی فیصد سے زائد آبادی روٹی کی محتاج ہوگئی ہے٬ اس کا سبب سیاستدانوں٬ حکمرانوں٬ بڑے بڑے افسران٬ سرمایہ داروں اور تاجروں وغیرہ کی مال سے جنون کی حد تک محبت ہے٬ مذکورہ طبقات کی مال سے اس بےجا محبت کی وجہ سے قومی خزانہ خالی ہے اور ملک عالمی مالیاتی اداروں کے سودی قرضوں پر گزارا کرنے پر مجبور ہے٬ دوچار فیصد افراد کے پاس دولت کے اتنے خزانے موجود ہیں کہ وہ اربوں کھربوں روپے کے مالک ہیں٬ یہ سارا قومی خزانہ ہے جو وہ مختلف طریقوں سے لوٹ مار کے ذریعہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
دل سے دولت کی محبت کو نکالے بغیر محض قانون اور پکڑ دھکڑ سے دولت پرستی کے رجحانات ومیلانات کوکم نہیں کیا جا سکتا٬ اس وقت پوری انسانیت دولت پرستی کے بحران سے دوچار ہے٬ کوئی قانون ایسا موجود نہیں ہے٬ جو سرمایہ داروں٬ مالداروں اور باصلاحیت افراد کے دل سے اس جنون کو نکال سکے٬ اسلام کا تربیتی نظام ہی ایسا ہے کہ اسے اگر نظام تعلیم کا حصہ بنایا جائے تو قوم بحیثیت مجموعی دولت پرستی کی بیماری سے نجات حاصل کر سکتی ہے٬ اللہ کی محبت اور اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس ہی وہ چیز ہے٬ جو اگر تعلیم وتربیت کے نظام میں شامل کیا جائے تو دولت پرستی سے نجات حاصل ہو سکتی ہے۔ اس کی دوسری کوئی صورت نہیں۔
(131)
دین کی سلف صالحین کی

پیش کردہ ترتیب کی اہمیت

جدیدیت کے میلانات اور رجحانات نے ملی زندگی کو جو نقصانات پہنچائے ہیں٬ وہ تواپنی جگہ٬ لیکن دین کی جدید تشریح کے نام پر بھی جدیدیت کے گہرے اثرات شامل ہوگئے ہیں٬ جس کی وجہ سے سلف صالحین کی پیش کردہ دین کی ساری ترتیب تبدیل ہوگئی ہے اور خارجی زندگی میں جدوجہد دین کا نصب العین بن گیا ہے٬ سلف صالحین نے دین کی جو ترتیب پیش کی تھی٬ اس میں اصلاح نفس٬ تزکیہ نفس٬ اللہ کی محبت ومعرفت٬ باطنی بیماریوں سے نجات٬ سیرت وکردار میں پاکیزگی٬ دنیا کے مقابلے میں آخرت کی زندگی کو ترجیح دینا٬ اعمال صالحہ٬ حمیت دین٬ جذبہ جہا د وغیرہ یہ ترتیب تھی ۔
سلف صالحین کی طرف سے پیش کردہ دین کی یہ تشریح قرآن وسنت سے ماخوذ ہے اور صحابہ کرام کی زندگیوں سے دین کی یہی ترتیب ثابت ہے٬ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ ایمان کے استحکام سے پہلے اگر شریعت کے قوانین نازل ہوتے تو (غیر تربیت یافتہ افراد) اس پر عمل نہ کرتے٬ اس لئے اللہ نے دین کی ترتیب ہی یہی رکھی کہ سب سے پہلے ایما ن کی مضبوطی٬ توحید میں رسوخ اور اللہ اور اس کے رسول سے محبت٬ جذبہ اطاعت اور خفتہ باطنی قوتوں کی بیداری٬ اس کے بعد شریعت کے احکام اور جذبہ جہاد وغیرہ کی ترتیب شامل ہے۔
دین کی اس ترتیب کی خصوصیت یہ ہے کہ جب ایمان مستحکم ہوتا ہے٬ اللہ سے والہانہ محبت کا تعلق قائم ہوتا ہے تو اللہ کے لئے ایثار وقربانی دینا٬ نفسی قوتوں سے مقابلہ کرکے٬ اسے زیر کرنا اور اپنی شخصیت کو اسلامی شریعت سے ہمہ آہنگ کرنا آسان ہوتا ہے۔
جدید اسلامی فکر کے حاملوں نے سلف صالحین کی دین کی اس ترتیب کے برعکس اپنے علم اور اپنی ذہانت سے قرآن وسنت کا جو مفہوم سمجھا٬ جس مفہوم کو پیش کرنے میں انہوں نے اپنی ساری توانائیاں خرچ کی٬ وہ ترتیب یہ ہے کہ دین کا نصب العین ہی خارجی زندگی میں تبدیلی اور ریاستی نظام کی اسلام سے ہمہ آہنگی کے لئے جدوجہد ہے (واضح ہو نصب العین وہ ہوتا ہے٬ جس کے گرد ساری تعلیمات گھوم رہی ہوتی ہیں)۔
دین کی اس ترتیب کی تبدیلی سے کچھ فوائد بھی ہوئے٬ لیکن اس کے نقصان کا یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ تزکیہ نفس٬ اصلاح نفس٬ اللہ سے والہانہ محبت اور سیرت وکردار میں پاکیزگی جیسے سارے کام ثانوی حیثیت اختیار کر گئے٬ بلکہ یہ سارے کام خارجی زندگی میں جدوجہد کے نصب العین کے تابع ہوگئے٬ جس کی وجہ سے باطنی زندگی میں حقیقی انقلاب برپا ہو کر٬ اسلامی جدوجہد کے لئے ایثار وقربانی دینے اور ہر محاذ پر باطل سے مقابلہ کی پوری طرح استعداد پیدا نہ ہو سکی۔
اس نکتہ کو سمجھکر دین کی سلف صالحین کی پیش کردہ ترتیب کو اختیار کرنا پڑے گا٬ اسی سے معاشرے اور ریاست کی اسلامی بنیادوں پر تشکیل کے کام کی استعداد وصلاحیت پیدا ہوگی۔
﴿تحریر:حافظ محمد موسٰی بھٹو ﴾
132)
*مسلم نفسیات اور مغربی نفسیات (ایک نظر میں* )

مسلم نفسیات کی تاریخ چودہ سو سال تک پھیلی ہوئی ہے٬ جب کہ مغربی نفسیات کا عرصہ دیڑھ دوسوسال سے زیادہ نہیں ہے۔
مسلم نفسیات کا سارا زور دل اور روح کو مستحکم کرکے٬ ان کے ذریعہ انسانی نفسیات اور شخصیت کو متوازن بنانا ہے٬ جس سے نفس کی حالت میں بھی تغیر پیدا ہوتا ہے تو دماغ بھی صحتمند خطوط پر سوچنے لگتا ہے٬ نیز دل٬ دماغ٬ روح اور نفس کے درمیان مُغایَرت(غیریت) اور دوری ختم ہو کر٬ ایک دوسرے کے درمیان قربت پیدا ہوتی ہے٬ دماغ وہی سوچتا ہے جو دل اور روح کی چاہت ہوتی ہے٬ نفس کی حالت میں تغیر برپا ہوجاتا ہے اور وہ نفس مطمئنہ کی صورت اختیار کرنے لگتا ہے٬ اس طرح مسلم نفسیات انسانی شخصیت کے اہم اور بنیادی حصوں کے درمیان کشمکش اورٹکراؤ ‏ کو ختم کرکے نفسیات اور دماغ میں پیدا ہونے والے خلل اور فسادی اثرات کا قلع قمع کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔
مسلم نفسیات کے ماہروں نے چودہ سو سال میں کروڑہا بلکہ اربہا انسانوں کے دل اور دماغ کو متوازن بنا کر٬ ان میں قربت پیدا کرکے سرے سے نفسیاتی بیماریوں کو پیدا ہی نہیں ہونے دیا٬ مسلم نفسیات کا تحلیل نفسی اور تہذیب نفس کا یہ تجربہ اتنا کامیاب رہا ہے کہ ہر دور میں لاکھوں افراد ہر طرح کی ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں سے بچاؤ میں کامیاب رہے۔
جب کہ مغربی نفسیات کی بنیاد دل اور روح پر ہونے کی بجائے شعور اور لاشعور پر ہے٬چونکہ انسانی شخصیت کے فہم کی بنیاد ہی کمزور ہے٬ اس لئے جدید انسانوں میں نفسیاتی بیماریوں کی ایک وبا ہے جو پھوٹ پڑی ہے۔
نفسیاتی بیماریوں سے بچاؤ کےلئے جدید نفسیاتی ماہروں کی طرف سے نئی نئی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں اور شعور کو سلانے کے لئے نئی نئی دوائیں ایجاد ہورہی ہیں٬ لیکن وقتی فائدے کے علاوہ مستقل فائدے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی٬ سبب یہ ہے کہ انسانی شخصیت اور اس کے سارے داخلی نظام کو سمجھنے کے لئے وحی کی ضرورت ہے٬ وحی کے ذریعہ ہی انسان میں موجود دل کے انوار الہٰی کے اخذ کرنے کی صلاحیت کو سمجھا جا سکتا ہے اور روح کے محبوب حقیقی کے لئے اضطراب کی نوعیت کو بھی۔ ﴿تحریر:حافظ محمد موسٰی بھٹو ﴾
(133)
*مسلم نفسیات کے ماہروں کا طریقہ علاج*

مسلم نفسیات کے ماہروں کے ہاں ہر طرح کے نفسیاتی مریضوں کے علاج کے لئے جو طریقہ مروج رہا ہے ( جو سب سے زیادہ مؤثر رہا ہے)وہ یہ ہے کہ ڈ پریشن کے مریض کو کہا جاتا ہے کہ وہ مسلم ماہر نفسیات (جسے روحانی استاد بھی کہا جاتا ہے) اس کی صحبت میں مسلسل آتا رہے٬ روزانہ نہیں تو کم از کم ہفتہ میں ایک بار ضرور آتا رہے اور اپنے آپ کو مریض سمجھکر آتا رہے اور اپنی شخصیت کو مکمل طور پر روحانی استاد کے حوالے کردے٬ صحبت کے اس عمل سے روحانی استاد کے لاشعور یعنی باطن سے طاقتور مثبت شعائیں اٹھکر٬ مریض کے لاشعور کو بدل کر٬ اسے مثبت بنانے٬ اس کے شعور اور اس کے رخ کو بدلنے میں کردار ادا کرتی رہیں گی٬ اس کے ساتھ ساتھ مریض کو اسم ذات کا ذکر بھی دیا جاتا ہے٬ اس ذکر کے اہتمام سے اس کے قلب میں لازوال ہستی کے انوار حسن کا ورود ہونے لگتا ہے٬ جس سے لاشعور میں موجود منفی قوتوں کے خلاف جنگ کا عمل شروع ہونے لگتا ہے۔
صحبت اور ذکر کے عمل سے ڈ پریشن میں کمی آنا شروع ہوجاتی ہے اور نئی زندگی کا احساس مریض کو خوشیوں سے سرشار کر دیتا ہے۔
موجودہ دور میں مسلم نفسیات کے ماہروں کی قدروقیمت ختم ہوجانے اور مغربی ماہرین نفسیات ہی کو سب کچھ سمجھنے کا نتیجہ ہے کہ نفسیاتی مریضوں کی بیماریاں پیچیدہ سے پیچیدہ ہوتی جا رہی ہیں۔
مسلم نفسیات کے ماہروں یعنی روحانی استادوں نے صدیوں تک افراد پر اثر انداز ہوکر٬ معاشرے کو نفسیاتی مریضوں کے معاشرے میں تبدیل ہونے سے بچائے رکھا۔
ہماری تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا ہے کہ مسلم ماہروں پر اعتماد مکمل طور پر ختم ہونے کو ہے، بالخصوص جدید تعلیم یافتہ افراد کا ان پر اعتماد مجروح ہوا ہے٬ اس کی سزا معاشرے کوجس صورت میں مل رہی ہے٬ وہ یہ ہے کہ معاشرےمیں نفسیاتی مریضوں کی تعداد دن بدن تیزی سے بڑھتی جارہی ہے۔
﴿تحریر:حافظ محمد موسٰی بھٹو ﴾

(134)
*جدیدیت سے مرعوبیت کی ایک دوسری صورت*

جدیدیت سے تاثیر پذیری کی ایک صورت یہ ہے کہ اسلام کو عبادات٬ اصلاح نفس٬ فکر آخرت٬ سیرت وکردار میں پاکیزگی اور دعوت تک محدود رکھا جائے ٬نیز اسلام کے نظام زندگی اور جہاد وجذبہ جہاد اور سیاست کے بارے میں اسلامی تعلیمات کی مخالفت کی جائے٬ یہ جدیدیت سے مرعوبیت ہی کی شکل ہے۔
اس مرعوبیت کی سب سے بڑی مثال مولانا وحید الدین خان کی فکر ہے٬ موصوف نے سو سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں٬ چالیس پچاس سال سے ’’الرسالہ‘‘ کے نام سے ماہنامہ رسالہ بھی نکال رہے ہیں٬ ان کی ساری فکر کا محور اسلام کی اصلاح نفس فکر آخرت اور دعوت پر مبنی ہے اور امت میں جن شخصیتوں نے بھی سیاسی نظام سے متعلق اسلامی تعلیمات کو اجاگر کیا یا حکومتی نظام کو اسلام سے ہمہ آہنگ بنانے کی کاوشیں کیں یا موجودہ دور میں مسلم امت جہاں بھی اپنی زندگی اور بقا کے لئے جہاد وقتال کررہی ہے٬ موصوف اپنی قلمی صلاحیتیں ان کے خلاف صرف کررہے ہیں۔
اسلام کے اس محدود تصور کے بارے میں مولانا وحید الدین خان صاحب ہزارہا سے زیادہ صفحات لکھ چکے ہیں٬ ان کا کہنا ہے کہ صدیوں سے وہ پہلی شخصیت ہیں٬ جنہوں نے اسلام کی اصلاح نفس اور دعوتی نوعیت کے پیغام کو سمجھکر ٬ اسے باقائدہ ایک مشن کی حیثیت سے پیش کیا ہے٬ اسلامی تاریخ کے باقی سارے فُضلا اور مفکرین٬ اسلام کے اس پیغام کی حقیقی نوعیت کو سمجھنے میں ناکام رہے۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی تعلیمات کا ایک قابل ذکر حصہ جہاد کی تعلیمات پر مشتمل ہے٬ مسلمان اگر اپنی بقا کے لئے مختلف مقامات پر جہاد وقتال کررہے ہیں تو انہیں مجرم قرار دینا نہ صرف غلط ہے٬ بلکہ اسلام کی روح کو نہ سمجھنے اور جدید مغربی فکر سے شدید مرعوبیت ہی کا نتیجہ ہے۔
مولانا وحید الدین خان جیسی ممتاز علمی شخصیت سے اتنی فکری مرعوبیت اور اسلام کے پیغام کی نوعیت کو نہ سمجھنے کی توقع ہرگز نہیں تھی٬ اسلام کے فرائض میں جہاد وقتال بھی شامل ہے٬ جہاد کو اہمیت نہ دینا اور مظلوم مسلمانوں کی طرف سے ہونے والی جہادی سرگرمیوں کی مذمت کرنا٬ جدیدیت سے تاثیر پذیری ہی کا نتیجہ ہے۔
ہماری نظر میں یقینا اسلام کی تعلیمات میں تعلق بااللہ٬ تزکیہ نفس٬ فکر آخرت٬ سیرت وکردار کی پاکیزگی جیسے کام نصب العینی حیثیت رکھتے ہیں٬ لیکن اسلام کے سیاسی نظام اور اس نظام کے قیام کے لئے ہونے والی جدوجہد اور دنیا کے مختلف ممالک میں مظلوم مسلمانوں کی طرف سے ہونے والے جہاد کے ذریعے اپنی بقا کی جنگ لڑنا٬ یہ تو دینی فرائض میں شامل ہے٬ اس کی مخالفت کا کیا جواز ہے۔
﴿تحریر:حافظ محمد موسٰی بھٹو ﴾